موم بتی ماتم آخر آیا کہاں سے----- تھوڑی سی تاریخ جانئے

4:36:00 AM zia khan 0 Comments





کسی حادثے میں مرنے والوں کی یاد میں شمعیں روشن کرنے کی رسم کو میڈیا نے گلیمرس بنا دیا ہے، کہ اب ہر بلا سوچے سمجھے اسے اختیارکر رہا ہے۔آئیے اس رسم کے بارے میں چند حقائق دیکھتے ہیں۔ شمع جلا کر یا آگ روشن کر کے عبادت کرنا تو دنیا کے کئی مذاہب کا مشترکہ عمل ہے۔ جس میں عیسائیت، یہودیت، ہندو مت، آتش پرستی وغیرہ سب شامل ہیں۔ لیکن خاص طور پر مر جانے والوں کی یاد میں شمع جلانے کی رسم مذاہب دنیا میں صرف اور صرف یہودیت کا خاصہ ہے۔
ہر مرنے والے یہودی کی یاد میں اُس کے خاندان والے مرنے کی اگلی رات سے لے کر مسلسل سات راتوں تک گھر میں ایک شمع روشن کرتے ہیں۔ اس کے بعد یہ عمل ہر ہفتے یعنی "سبت" کی رات کو دھرایا جاتا ہے۔ اسی طرح ہر سال یعنی اس کی برسی کی رات کو بھی اس کی یاد میں شمع جلائی جاتی ہے۔ یہ یہودیت کی ایک باقاعدہ مذہبی رسم ہے جس کو "یاہرذٹ" (yahrzeit) کہا جاتا ہے۔
یہودیت میں مرنے والوں کی یاد میں شمع روشن کرنے کا دوسرا موقع "یوم کپور" (Yom Kippur) ہوتا ہے۔ یوم کِپور کا تہوار ہر سال یہودی کلینڈر کے مہینے "تشری" کے دسویں دن مانایا جاتا ہےـ جو عموماً ستمبر یا اکتوبر میں آتا ہےـ یہ ایک لمبا روزہ ہوتا ہے جو سورج ڈوبنے پر شروع ہوتا ہے اور اگلے دن سورج غروب پر کھولا جاتا ہےـ اس پوری رات میں یہودی عبادت کرتے ہیں اس رات ہر یہودی اپنے دنیا سے گزر جانے والے ہر عزیز کی یاد میں شمع بھی جلاتا ہے۔
صدیوں سے مرنے والوں کی یاد میں شمع روشن کرنے کی یہ رسومات یہودی مذہب کا حصہ ہیں۔ اور صرف یہودیوں میں ہی رائج رہی ہیں۔ مغربی دنیا میں اس رسم کو معاشرے کا عمومی رواج بننے کا عمل دوسری جنگ عظیم کے بعد سے شروع ہوا۔ جب سامراجیوں نے ہٹلر کی جانب سے لاکھ یہودییوں کے قتل عام (Holocaust) کے پراپوگنڈے کو اتنا پھیلایا کہ لوگ اسے حقیقت سمجھنے لگے۔ تو ہر طرف یہودی مظلومیت کی ہوا چلنے لگی۔ جب یہود نے جنگ کے اختتام پر ہالو کاسٹ میں مرنے والوں کی یاد میں شمعیں روشن کرنا شروع کیا تو، یورپ بھر میں غیر یہود نے بھی اظہار یکجہتی کے لئے قریہ قریہ شہر شہر شمعیں جلانا شروع کیں۔ ایک طویل عرصے تک یورپ میں ہر سال صرف ہالو کاسٹ میں مرنے والے یہودیوں کی یاد میں ہی شمعیں روشن کی جاتی رہی ہیں۔ اس کے بعد یہ ہر حادثے میں مرنے والوں کی یاد میں شمعیں روشن کی جانے لگیں۔
یورپ کی دیکھا دیکھی آہستہ آہستہ گلوبلائیزیشن کے زیر اثر یہ دنیا کے دیگر خطوں میں بھی یہ رسم پھیلنا شروع ہو گئی ۔۔۔۔ دوستو اور پیاری بہنو
پس ثابت ھوا کہ اس کا اسلام سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں ھے ۔۔۔ ھمیں وہی کام کرنے چاھئے جس کا قرآن مجید اور آقا دو جہاں محمد صلی اللہ نے حکم دیا ھے ۔۔۔۔

اپ کے پڑھنے کا  شکریا
  مذید جانے کیلنئے  ہمارے ساتھ رہے 

( یہا ں کلک کرے)